
ٹروجن ہارس: ایک افسانوی چال سے سائبر دنیا کا خطرناک ہتھیار
قدیم یونانی افسانوں میں ٹروجن ہارس کی کہانی شاید سب سے مشہور دھوکے کی مثال ہے۔ ہومر کی ایلیاڈ اور اوڈیسی میں بیان کی گئی یہ داستان تقریباً تین ہزار سال پرانی ہے۔ کہانی کے مطابق، دس سالہ محاصرے کے بعد یونانی فوج نے ٹرائے شہر کو فتح کرنے کے لیے ایک انوکھی حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے ایک بہت بڑا لکڑی کا گھوڑا تیار کیا، جس کے اندر منتخب سپاہی چھپ گئے۔ گھوڑے کو دیوی ایتھینا کی نذر کے طور پر پیش کیا گیا اور یونانی فوج نے جہازوں کو سمندر کی طرف لے جا کر واپسی کا ڈرامہ کیا۔ ٹرائے کے لوگوں نے اسے فتح کی علامت سمجھ کر شہر کے اندر لے آئے۔ رات کو چھپے ہوئے یونانی سپاہی باہر نکلے، دروازے کھولے اور شہر پر قبضہ کر لیا۔
تاریخی ماہرین اور آثار قدیمہ کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ٹرائے شہر واقعی موجود تھا—موجودہ ترکی کے مقام ہسارلک پر کھدائیوں سے اس کی باقیات ملی ہیں، جہاں برونز ایج کے دور میں (تقریباً 1200 قبل مسیح) تباہی کے آثار ملتے ہیں۔ شہر میں آگ لگنے اور تباہی کے ثبوت موجود ہیں، جو کسی جنگ یا حملے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم، لکڑی کے گھوڑے کی حقیقت پر شدید شک ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے کلاسیکل ماہر ڈاکٹر آرمنڈ ڈی اینگور جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک تخلیقی افسانہ ہے، شاید قدیم محاصرہ کرنے والے آلات (جیسے سیج انجن) کو گھوڑوں کی کھالوں سے ڈھانپنے کی عادت سے متاثر۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ "ہارس" دراصل فینیشین جہاز "ہپوس" (جو یونانی میں گھوڑا کہلاتا تھا) کا غلط ترجمہ یا استعارہ ہو سکتا ہے، جو جنگ کے بعد تحفے کے طور پر دیا جاتا تھا۔ کوئی براہ راست آثار قدیمہ کا ثبوت گھوڑے کی موجودگی کا نہیں ملا۔
یہ افسانوی کہانی آج کی دنیا میں ایک نئی، انتہائی حقیقی شکل میں زندہ ہے: کمپیوٹر اور سائبر سیکیورٹی میں "ٹروجن ہارس" یا ٹروجن وائرس۔ 1970 کی دہائی میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی یہ اصطلاح استعمال ہونے لگی، جب پروگرام ANIMAL جیسے کھیلوں میں چھپے ہوئے کوڈ نے خود کو پھیلانا شروع کیا۔ آج ٹروجن ایک قسم کا مال ویئر ہے جو کسی جائز نظر آنے والے سافٹ ویئر، ایپ، ای میل اٹیچمنٹ، یا فائل میں چھپا ہوتا ہے۔ جب صارف اسے ڈاؤن لوڈ یا انسٹال کرتا ہے—جیسے کوئی مفت گیم، یوٹیلیٹی ٹول، یا پی ڈی ایف—تو یہ اندر گھس جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ڈیٹا چوری کر سکتا ہے، پاس ورڈز ریکارڈ کر سکتا ہے، رینسم ویئر لانچ کر سکتا ہے، یا ہیکر کو کمپیوٹر کا ریموٹ کنٹرول دے سکتا ہے۔
ٹروجن ہارس کی یہ جدید شکل روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ سوشل انجینئرنگ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے—جعلی بینکنگ ایپس، فیشنگ ای میلز، یا مشکوک ویب سائٹس سے ڈاؤن لوڈ۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں صارفین ہر سال اس کا شکار ہوتے ہیں، جن میں مالی نقصان، پرائیویسی کی خلاف ورزی اور اداروں کی سیکیورٹی کو خطرہ شامل ہے۔
اصل سبق وہی ہے جو قدیم کہانی سے ملتا ہے: ظاہری خوبصورتی یا فائدے کے پیچھے چھپا دھوکہ سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ چاہے وہ افسانوی گھوڑا ہو یا ڈیجیٹل فائل، ہمیں ہر چیز کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ معتبر ذرائع سے سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کریں، اینٹی وائرس استعمال کریں، مشکوک لنکس سے بچیں، اور سب سے اہم—اپنے ارد گرد کی "نذرانوں" پر شک کریں۔ کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جو چیز بہت اچھی لگے، اس کے پیچھے اکثر کوئی چال ہوتی ہے۔
فرق پہچاننا سیکھیں—یہ نہ صرف کمپیوٹر کی حفاظت بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔